Menu

وحید الدین سلیم

وحید الدین سلیم

مصنفین

دریافت کریں اس مصنف کی 6 شائع شدہ تخلیقات — سچے قارئین کے لیے منتخب کردہ

مصنف “وحید الدین سلیم” کے بارے میں

شناخت: ماہرِ لسانیات، صحافی، ادیب، شاعر اور مترجممولانا سید وحید الدین سلیم اردو زبان و ادب کے ممتاز عالم، ماہرِ لسانیات، صحافی، شاعر، مترجم اور اصطلاح ساز تھے۔ اردو زبان کی علمی تشکیل، جدید اصطلاحات سازی اور لسانی مباحث کے فروغ میں ان کی خدمات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔وحید الدین سلیم کی تاریخ پیدائش میں اختلاف پایا جاتا ہے البتہ اسماعیل پانی پتی کے مطابق 1867ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حاجی سید فرید الدین درگاہ حضرت بو علی شاہ قلندر کے مجاور اور مولانا سید غوث علی شاہ کے مرید تھے۔ ابتدائی تعلیم شمس النساء نامی خاتون کے زیر نگرانی حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد ازاں پیر علی نقی حزیں سونپتی سے فارسی پڑھی اور مقامی میونسپل بورڈ اسکول میں داخل ہوئے۔ غیر معمولی حافظے اور ذہانت کے باعث 1882ء میں مڈل کے امتحان میں پورے پنجاب میں اول مقام حاصل کیا اور وظیفہ پانے کے مستحق قرار پائے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے اورینٹل کالج لاہور گئے جہاں مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے عربی ادب و تفسیر اور مولانا عبداللہ ٹونکی سے فقہ، حدیث، منطق اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ منشی فاضل کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہاولپور کے ایجرٹن کالج میں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ بعد ازاں مدرسہ عالیہ رامپور میں ہیڈ مولوی رہے، مگر بیماری کے باعث ملازمت ترک کرنی پڑی۔ کچھ عرصہ طبابت اور کاروبار سے وابستہ رہے لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ جولائی 1894ء میں مولانا حالی انہیں علی گڑھ لے گئے جہاں سر سید احمد خان نے انہیں اپنا لٹریری اسسٹنٹ مقرر کیا۔ سر سید کی وفات (1898ء) تک وہ ان کے ساتھ رہے۔سر سید کے انتقال کے بعد انہوں نے 1898ء میں رسالہ "معارف" جاری کیا۔ بعد ازاں "حالی پریس" قائم کیا اور صحافت و اشاعت کے میدان میں سرگرم رہے۔ وہ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، مسلم گزٹ اور روزنامہ زمیندار جیسے اہم اخبارات کی ادارت سے وابستہ رہے۔ ان کی آزاد فکر اور بے باک صحافت نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز صحافیوں میں شامل کر دیا۔بعد ازاں حیدرآباد دکن کی حکومت کی دعوت پر دارالترجمہ سے وابستہ ہوئے اور عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے بعد اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ انہوں نے جدید علوم کے لیے اردو اصطلاحات وضع کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس موضوع پر اپنی معروف کتاب "وضع اصطلاحات" تصنیف کی، جو اردو لسانیات میں سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔مولانا سلیم ایک قابلِ ذکر شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں سادگی، روانی، لسانی شعور اور فکری گہرائی نمایاں ہے۔ نظم ان کی پسندیدہ صنف تھی، تاہم غزل، مثنوی اور دیگر اصنافِ سخن میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی معروف نظموں میں "سمندر"، "سمندر کے کنارے"، "بارِ خلد" اور "گوشۂ تنہائی" شامل ہیں۔ ان کے کلام میں اردو، ہندی اور بعض انگریزی الفاظ کا فطری امتزاج ملتا ہے۔ان کی شعری اور نثری تخلیقات بعد میں مختلف مجموعوں کی صورت میں شائع ہوئیں، جن میں "افکارِ سلیم"(شعری مجموعہ)، "مضامینِ سلیم" (تین جلدیں) اور "افاداتِ سلیم" خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اگرچہ انہوں نے تنقید پر کوئی مستقل کتاب نہیں لکھی، لیکن ان کے مضامین اردو تنقید اور لسانیات کا قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔مرزا فرحت اللہ بیگ کا مشہور خاکہ ’ایک وصیت کی تعمیل میں‘ مولانا وحید الدین سلیم کی شخصیت اور مزاج کا بہتر نقشہ پیش کرتا ہے، جس سے ان کی زندگی اور عادات و خصائل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔1927ء میں دانتوں کے ایک پیچیدہ مرض میں مبتلا ہوئے۔ علاج کے لیے رانچی اور بعد ازاں ملیح آباد گئے، مگر صحت یاب نہ ہو سکے۔وفات: 29 جولائی 1928ء کو ملیح آباد میں انتقال ہوا۔

“وحید الدین سلیم” کی کتابیں

Sponsored Advertisement