شوکت علی فہمی
مصنفین
دریافت کریں اس مصنف کی 19 شائع شدہ تخلیقات — سچے قارئین کے لیے منتخب کردہ
مصنف “شوکت علی فہمی” کے بارے میں
شناخت: ممتاز صحافی، دینی و تاریخی مصنف، بچوں کے لیے اخلاقی اور اصلاحی کتابیں بھی تصنیف کیں۔مفتی شوکت علی فہمی 24 اکتوبر 1901ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اُن ممتاز صحافیوں، ادیبوں اور مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو صحافت، دینی ادب اور تاریخ نگاری میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ خواجہ حسن نظامی کے ادبی حلقے سے وابستہ تھے اور اسی دبستان کے اہم نمائندہ قلم کاروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق تاریخ ساز سیاسی و سماجی تحریکوں سے رہا، یہاں تک کہ 1857ء کی جنگِ آزادی، جس کا آغاز میرٹھ سے ہوا، اس کے محرکین میں ان کے خاندان کے افراد کا خصوصیت سے ذکر کیا جاتا ہے۔مفتی شوکت علی فہمی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز 1921ء میں اپنے ماموں زاد بھائی محمد انور ہاشمی کے ساتھ ماہنامہ ’’دین دنیا‘‘ کے اجرا سے کیا۔ یہ رسالہ جلد ہی اپنی منفرد دینی، ادبی اور سماجی شناخت کے باعث مقبول ہوگیا۔ وقت کے ساتھ اس کی اشاعت اور اثر پذیری میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ اردو کے اہم دینی و سماجی جرائد میں شمار ہونے لگا۔انہوں نے اپنی طویل صحافتی زندگی میں متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کی۔ روزنامہ، سہ روزہ، ہفتہ وار اور ماہنامہ صحافت کی تقریباً ہر صنف میں انہیں عملی تجربہ حاصل تھا۔ انہوں نے خواجہ حسن نظامی کے ساتھ مل کر روزنامہ ’’عادل‘‘ جاری کیا، جبکہ ’’طاقت‘‘ نامی اخبار مولانا ابوالکلام آزاد کے مشہور اخبار ’’الہلال‘‘ کے طرز پر تصویری اور معلوماتی انداز میں شائع کیا جاتا تھا، جس کی ادارت بھی انہوں نے انجام دی۔ بعد ازاں انہوں نے ’’اسلامی دنیا‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔مفتی شوکت علی فہمی صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ایک زود نویس اور مقبول مصنف بھی تھے۔ انہوں نے تیس سے چالیس کے درمیان کتابیں تصنیف کیں، جن میں زیادہ تر دینی، تاریخی، اصلاحی اور تربیتی موضوعات شامل تھے۔ ان کی تحریروں کا نمایاں وصف سادہ، عام فہم اور رواں اسلوب تھا، جس کی وجہ سے ان کی کتابیں عوام و خواص دونوں میں مقبول ہوئیں۔ خاص طور پر تاریخی موضوعات پر ان کی تصانیف نے اردو قارئین میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔ان کی اہم کتابوں میں ’’مکمل تاریخِ اسلام‘‘، ’’مکمل تاریخِ ہند‘‘، ’’ہند اور پاکستان کے اولیا‘‘، ’’ہندوستان پر مغلیہ حکومت‘‘ اور ’’انقلاب کی خونیں تاریخ‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں، جن میں ’’بچوں کے لیے تاریخی قصے‘‘، ’’بچوں کی بوستاں‘‘، ’’بچوں کی گلستاں‘‘، ’’بچوں کی خطوط نویسی‘‘، ’’اخلاقی کہانیاں‘‘، ’’اولاد کی تربیت‘‘، ’’قرآن کی کہانیاں‘‘ اور ’’پیغمبروں کی کہانیاں‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔وفات: مفتی شوکت علی فہمی کا انتقال 14 اپریل 1993ء کو ہوا۔