Menu

قاضی مشتاق احمد

قاضی مشتاق احمد

مصنفین

دریافت کریں اس مصنف کی 14 شائع شدہ تخلیقات — سچے قارئین کے لیے منتخب کردہ

مصنف “قاضی مشتاق احمد” کے بارے میں

شناخت: ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور صحافت و ادب کے فعال قلم کارقاضی مشتاق احمد 20 مارچ 1940ء کو جلگاؤں، مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی میر چاہت علی طنز و مزاح نگار تھے، جبکہ دادا قاضی عبد الرسول المعروف بچو میاں عربی و فارسی کے جید عالم تھے۔ اس علمی و ادبی ماحول نے بچپن ہی سے ان کے اندر مطالعے اور لکھنے لکھانے کا شوق پیدا کیا۔ ان کا آبائی تعلق ارنڈول (مشرقی خاندیس) سے تھا اور گھر کی ذاتی لائبریری نے ان کی ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی زمانے ہی میں انہوں نے بے شمار کتابیں پڑھ ڈالیں اور ادب سے گہرا رشتہ قائم کرلیا۔انہوں نے ایم جے کالج جلگاؤں سے ایف اے کیا، بعد ازاں پونہ یونیورسٹی سے معاشیات اور سیاسیات کے ساتھ بی اے (اسپیشل) کی ڈگری حاصل کی۔ پھر کے سی کالج، بمبئی سے ایل ایل بی کیا۔ عملی زندگی میں انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور بطور تحصیلدار اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں مہاراشٹر سول سروسز میں ایڈیشنل کلکٹر (سلیکشن گریڈ) رہے اور حکومتِ مہاراشٹر کے محکمہ سماجی بہبود میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔قاضی مشتاق احمد کی ادبی زندگی کا آغاز طالب علمی ہی کے زمانے میں ہوگیا تھا۔ ان کی پہلی کہانی ان کے ساتھی میر فخر اللہ خاں پرواز کے رسالے ’’شگوفہ‘‘ میں شائع ہوئی۔ بعد ازاں وہ اسی رسالے کے ادارتی بورڈ میں شامل ہوگئے۔ ان کی پہلی طویل کہانی ’’زندہ مورتی‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوئی، جس نے انہیں ابتدائی شہرت عطا کی۔ کالج کے زمانے میں انہوں نے ’’بوگس فلم کمپنی‘‘ کے نام سے ایک کامیڈی ڈراما تحریر کیا، جو بے حد مقبول ہوا اور ان کی ڈرامہ نگاری کی صلاحیت نمایاں ہو کر سامنے آئی۔صحافت کے میدان میں بھی انہوں نے اہم خدمات انجام دیں۔ روزنامہ ’’ہندوستان‘‘ سے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے وابستہ ہوئے اور بعد میں نیوز ایڈیٹر کے منصب تک پہنچے۔ انہوں نے اداریے، فلمی مضامین اور کالم بھی تحریر کیے۔ اس کے علاوہ ہفت روزہ ’’بمبئی‘‘، ’’صبحِ امید‘‘ اور ’’روشنی‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ 1963ء سے رسالہ ’’شمع‘‘ میں ان کے افسانے شائع ہونے لگے، جس کے بعد اردو میں ان کی شناخت ایک باقاعدہ افسانہ نگار کے طور پر قائم ہوگئی۔قاضی مشتاق احمد نے تین سو سے زائد افسانے تحریر کیے، جو ملک کے معتبر ادبی جرائد میں شائع ہوئے۔ ان کی اب تک اٹھائیس سے زائد کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں، جن میں افسانوی مجموعے، ناول، بچوں کا ادب، ڈرامے، خاکے، افسانچے، رپورتاژ اور سفرنامے شامل ہیں۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں معاشرتی زندگی، انسانی نفسیات، متوسط طبقے کے مسائل اور بدلتی ہوئی تہذیبی قدروں کی عکاسی نمایاں طور پر ملتی ہے۔ سادہ مگر مؤثر اسلوب، رواں بیانیہ اور زندگی سے قریب موضوعات ان کی تحریروں کا امتیاز ہیں۔

“قاضی مشتاق احمد” کی کتابیں

Sponsored Advertisement